موہے پیا ملن کی آس

  شاید کہانی کوئی بھی نئی نہیں ہوتی، شاید ہر کہانی کسی نہ کسی طور کسی نہ کسی فرد کے ساتھ کسی نہ کسی زمانے میں پیش آ چکی ہوتی ہے۔ جزئیات، کردار اور اندازِ بیاں ہوتے ہیں جو ایک کہانی کو دوسری سے منفرد  یا ممتاز کرتے ہیں۔ زیرِ بیاں کہانی بھی کچھ ایسی... Continue Reading →

Advertisements

نمبر پلیٹ

گاڑی کی ٹمٹماتی ڈیجیٹل گھڑی کے نمبروں پر نظر پڑی تو دیر ہونے کا احساس ہوا، لاشعوری طور پر گاڑی کے ایکسیلریٹر پر پاؤں کا دباؤ بڑھ گیا۔ رفتار ذرا سی بڑھ گئی، چند لمحات ہی گزرے تھے کہ گاڑی کے پیچھے نیلی اور سرخ بتیاں گھومنے کا احساس ہوا۔ شمالی امریکہ کی سرد رات... Continue Reading →

دوسری منزل

والد صاحب کا معاملہ میرے ساتھ شروع سے ذرا سخت ہی رہا۔ ایسا نہیں کہ مجھے کوئی گلہ ہے بلکہ میں تو شکرگزار ہوں کہ کیرئیر کے جس مقام پر آج ہوں اس میں انکی بروقت اور مناسب سختی کا بڑا دخل رہا ورنہ الحمدللہ ایسا تخلیقی ذہن پایا تھا کہ بامشقت والی سزا تو... Continue Reading →

نصیب کی بارشیں

وہ دہم جماعت کے سیکشن ڈی کے سب سے آخری ڈیسک کے آخری کونے میں بیٹھا کرتا، اب سے نہیں بلکہ پچھلی تمام جماعتوں میں بھی  اسکی وہ جگہ برقرار رہی، کبھی کسی نے قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ رنگ گہرا سانولا، دیہاتی نقوش، ناٹا قد، ہمیشہ اجڑے بال اور کپڑے کبھی استری شدہ... Continue Reading →

حاجی اقبال کی مسجد

لو جی سفر تے چلے او جاندے جاندے نیکی دا کم کیتی جاؤ اللہ تہاڈا آن دا تےجان دا مقصد پورا کرے. اے اک مسجد بنا ریا واں اللہ دے گھر دی تعمیر واسطے سیمنٹ بجری لئی جو حسب توفیق ہو سکے۔۔ لاہور سے فیصل آباد کے درمیان چلنے والی کوہستان کمپنی کی اے سی... Continue Reading →

سلو آپا

انکا نام شاید سلمٰی ہوگا مگر گاؤں بھر میں سلو کے نام سے جانی جاتی تھیں.  گاؤں بھر کی لاڈلی اور ہر گھر کی فرد.  چھوٹوں کیلئیے سلو آپا,  بڑوں کیلئیے سلو پُتر اور خواتین کیلئیے نی سلو.  گاؤں بھر میں کسی کی مہندی کی تقریب ہو,  شادی ہو یا مرگ,  سلو آپا کے بغیر... Continue Reading →

تیرہ تولے کی چین

میکلیوڈ روڈ لاہور پر آتے ہوئے ریلوے سٹیشن کی طرف آئیں تو آپ اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں جہاں سے میکلیوڈ روڈ شروع ہوتی ہے, یہ جگہ آسٹریلیا چوک کہلاتی ہے. وجہ تسمیہ تو معلوم نہیں مگر نوے کی دہائی میں یہ جگہ سستے ہوٹلوں اور اے سی کوچز وغیرہ کے اڈوں کی آماجگاہ... Continue Reading →

انصافی سیاست سے نفرت کیوں؟

کچھ دن پہلے وٹس ایپ پر کسی نے ایک جذباتی بیانیہ فارورڈ کیا جس میں کسی نے نہایت محنت سے عمران خان کے اس قوم پر احسانات گنوائے جو کہ وہ تمام کام تھے جو خان صاحب بیس سال پہلے کر سکتے تھے مگر انہوں نے اس قوم پر ترس کھاتے ہوئے کرنے سے 'بوجوہ'... Continue Reading →

تبدیلی رضاکار

حقیقی واقعہ ہے اس لئیے ناموں کے معمولی رد و بدل کے ساتھ کوشش ہوگی کہ واقعات اصل جزئیات کے ساتھ پیش ہو سکیں۔ نوے کی دہائی کے اوائل کی بات ہے اور ہم اس وقت متوسط طبقے سے تعلق کے باعث اپنے شہر کے مرکزی گورنمنٹ ہائی سکول میں جماعت نہم کے طالب علم... Continue Reading →

Powered by WordPress.com.

Up ↑