مگر تم سمجھتے نہیں

کیا کہیے مگر اس قوم کے جو فرق نہ کرسکے حرام کرپشن اور حلال کرپشن میں۔

کیا انکا نیست و نابود ہوجانا نہیں بنتا؟

سوچتا ہوں دھرتی دِہل کیوں نہ گئی, آسمان کیوں نہ ٹوٹ پڑا, الزام بھی دھرا تو کس پر؟ اس گھرانے پر جس کے حیات ہونے کا واحد مقصد گولڈ لیف کےسگریٹ پی پی کر مکانا ہے؟ کوئی دن ہوتے ہیں، سپہ سالار کے ہاں حاضر ہوا، وہی سادہ سا مکان, چند ارب کی اوقات ہی کیا ہے؟ سگریٹ کےساتھ سگریٹ سلگانے والے سپہ سالار کو مہمان خانے میں منتظر پایا, ہمیشہ کی طرح خاموش مگر شرمیلے۔ اس دن مگر بالخصوص مضمحل پایا، عرض کیا حضور کیونکر؟ کاہے کو مگر؟ پہاڑ جیسے جگرے والا سپہ سالار جس کو نو سو ڈرون حملے ٹس سے مس نہ کر سکے جسکی نیند میں کراچی کی سات برس تک کی ماہانہ دو ہزار ٹارگٹ کلنگ خلل پیدا نہ کر سکی آج مضمحل؟  یا للعجب اس مرد درویش پر ضرور کوئی بھاری قیامت آن پڑی ہے۔ عرض کیا   ‘حضور آپکی حالت دیکھی نہیں جاتی ۔ ۔ وقت کے عارف نے کہا ہے  کہ . .’ ابھی یہاں تک ہی کہہ پایا تھا کہ تڑپ اٹھے اتنا کہا کیوں ناحق بات بے بات میں وقت کے عارف کو گھسیڑ لیتے ہو؟  کیونکر کر لیتے ہو اتنی ٹی سی؟ ناچیز تلملا کر رہ گیا عرض کیا جناب صفحہِ قرطاس کا پیٹ بھی تو بھرنا ہوتا ہے

کوئی دن ہوتے ہیں رات کے تیسرے پہر آنکھ کھل گئی طبیعت مگر متذبذب، بے چینی سی بے چینی، کب تلک کروٹیں بدلتا، سوچا ٹی وی لگاؤں برادرم رؤف کلاسرے کا پروگرام دیکھوں کہ اعداد و شمار کا جمگھٹا  سُن کر نیند اچھی آ جاتی ہے، دیکھا تو عزیزم جلال الرشید پہلے سے صوفے پر بیٹھا ہے مجھے دیکھا تو تڑپ اٹھا اور بولا بابا جانی کہیں آپ کی ‘نیلی گولیاں’ تو ختم نہیں ہو گئیں؟ کہا جانِ پدر فکر نہ کر آج طبیعت مائل نہیں۔ کل دوا فروش کے ہاں گیا تھا تو دُگنے پیسے مانگ رہا تھا کہ جناب آپکو بلیک میں منگوا کر دیتا ہوں. میاں محمد نواز شریف کو مگر خیال نہیں آتا کہ کم از کم نیلی گولیاں ہی سستی کی ہوتیں، پرویز رشیدوں اور سعد رفیقوں کے ہوتے ہوئے امید عنقا ہوئی۔ نیا پاکستان بن جائے تو شاید ‘نیلی گولی’ سستی ہو جائے۔ کپتان مگر سن کر بھی کہاں دیتا ہے۔ علیم خانوں اور صداقت عباسیوں سے مُفت کی نیلی گولیاں ملنا بند ہوں تو نئے پاکستان کی جدو جہد کی بھی فکر ہو

عرض کیا حضور ریٹائرڈ ہوئے دو برس ہوتے ہیں کیونکر خود کو مصروف رکھ پاتے ہیں؟ سگریٹ کے بجھتے ہوئے گُل سے نئی سگریٹ سلگاتے ہوئے سپہ سالار نےکُتب کے ڈھیر کی طرف اشارہ کیا کہ کچھ یہ پڑھ لیتا ہوں اور کمرے کے ایک کونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کچھ وہ ہیں کہ یادوں میں ممد و معاون ثابت ہوتے ہیں، کمرے کے کونے کی طرف نگاہ دوڑائی مضبوط چمڑے سے بنا سیاہ رنگ کے بوٹوں کا جوڑا پڑا تھا نمبر شاید گیارہ ہوگا, بے رونق و مٹی سے لتھڑی ہوئی حالت دیکھی تو کلیجہ منہ کو آ گیا کہ اب یہ وقت بھی آنا تھا جذبات سے آواز بھرا گئی, رُندھے ہوئے لہجے میں عرض کیا کہ حضور یہ حالت؟ کیا اس گھر میں کسی کو خیال نہیں؟ کوئی ذی شعور اتنی بے توقیری کیسے کر سکتا ہے؟ اس قدر لاپرواہی؟ اب تو تسمے تک ادھڑنے والے ہیں۔ مہینہ بھر یوں رہتے تو شاید نچلا سول تک الگ ہوجاتا, فوراً لپکا اور اٹھا کر پاس لے آیا فرط جذبات سے بوسہ دیا، ماتھے کو لگانے ہی والا تھا کہ کہنے لگے رہنے دو پہلے صاف کر لو، عرض کیا حضور انہی کے فیض تو آج چینلوں والے منہ لگاتے ہیں،  ابھی ملازم کو کہہ کر سامان منگواتا ہوں، برسوں کی ریاضت کام آئی اور فقط پون گھنٹے ہی میں چمکانے میں کامیاب ہو گیا آجکل کے اینکرز تو چار چار پہر لگا دیں کہ اتنی چمک آنا  ریاضت کیشی کے بغیر نا ممکن۔ کہنے لگے ایڑی کے پیچھے کچھ کمی رہ گئی ہے لجاجت سے عرض کی کہ جناب اب آپ ریٹائرڈ بھی تو ہو چکے, آنکھوں میں سرخی عود آئی ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولے ‘دیکھ لو چھوٹا بھائی ابھی حاضر سروس برگیڈئیر ہے’ میں نے فوراً ملازم کو آواز دی کہ بیٹا بھاگ کے جا محلے کی دوکان سے کیوی کی ایک ڈبیا اور لے آ

کہنے لگے ‘ایک بات کہو . . جو گھرانے پر الزام لگا کیا تُم مانتے ہو؟’ عرض کی حضور بچپن سے عادت ٹھہری کہ بلا تحقیق پیہم یقین نہیں کرتا کوئی دن ہوتے ہیں کہ ہیڈ ماسٹر صاحب نے کہ اللہ کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ناچیز کو بُلا کر یوں کہا کہ تمھارا پانچویں جماعت کا داخلہ بھیجنا ہے فارم پر اپنی  ولدیت لکھواؤ، صاف کہہ دیا کہ جناب جب تلک والدہ آنجہانی جنت مکانی سے تصدیق نہ کروا لوں ولدیت نہ بتلاؤں گا، کتنا ہی زور لگا بیٹھے مگر جب تک والدہ سے اصل نام دریافت نہ کر لیا داخلہ فارم میں ولدیت کا خانہ پُر کر کے نہ دیا۔ حضور آپکے گھرانے پر اتنا بڑا الزام اور ناچیز یوں یقین کر لے؟ دھرتی کا سینہ پھٹ نہ جائے؟ عرض کیا مگر اک سوال دل میں مچلتا ہے کہ آج اتنا اضمحلال کیسا؟ کہا برادرِ عزیز, ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے سترہ ارب کا کچھ سُنا تم نے؟ سوچو سترہ ارب کیا کوئی چھوٹی موٹی رقم ہوتی ہے؟ پھر ایک آنکھ مِیچ کر ایک لمبا کش لگا کر بولے مجھے تو صرف سات ارب کا کہا تھا۔ سوچتا ہوں دس ارب کہاں گئے؟ عرض کیا حضور میری کالونی منظور کروا دی ہوتی تو آج آپ کیلئیے سیسہ پلائی دیوار بن کے کھڑا ہوتا. آپ ناحق غمگین ہوتے ہیں. آپکے لئیے آج سے مہم شروع کرتا ہوں کپتان کیلئے بھی تو مفت میں اٹھارہ سال سے کررہا ہوں

کیا کہیے مگر اس قوم کے جو فرق نہ کرسکے حلال کرپشن اور حرام کرپشن میں۔ دونوں میں پہاڑ جتنا فرق، مگر تم سمجھتے نہیں۔

 

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s

Powered by WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: